Urdu News

اردو صحافت کی دو صد سالہ تقریبات ممبئی میں ‌شاندار سیمنار کا انعقاد

اردو صحافت نے جدوجہد آزادی میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے۔نریندر وابلے

ممبئی(نمائندہ ایم آئی ظاہر)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق اردو صحافت کی دو صد سالہ تقریبات کے سلسلہ میں پترکار وکاس فاونڈیشن کے زیر اہتمام اردو صحافت کا جشن بڑی شان سے منایا گیا۔ہندوستان میں اردو صحافت کو دو سو سال مکمل ہونے پر صحافیوں کی تنظیم پترکار وکاس فاونڈیشن نے ممبئی کے حج ہاوس میں یک روزہ سمینار کا انعقاد کیا۔’’اردو صحافت معاصرین کی نظر میں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اولین سیشن میں تنظیم کے صدر یوسف رانا نے غرض و غائیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ پورے ہندوستان میں اردو صحافت کادو سو سالہ جشن منایاجا رہاہے تو ممبئی کیوں پیچھے رہے ۔اس سیشن میں مراٹھی پترکار سنگھ کے صدر نریندر وابلے نے کہا کہ میں کبھی بھی خودکو اردووالوں سے الگ محسوس نہیں کیا۔اردو صحافت نے جد و جہد آزادی میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے۔

بوہرہ فرقہ کی نمائندگی کرنے والے صادق ایدیزذہبی نے شہید صحافی مولوی باقر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بوہرہ پیشوا سیدنا برہان الدین،سیدنا طاہر سیف الدین اور سیدنا مفضل کو اردو زبان سے شغف تھا اور تینوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے سچا مسلمان وہی ہے جس کی زبان اورہاتھ سے کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچے۔اردو صحافیوں کا بھی فرض ہے کہ وہ صحیح خبریں قارئین تک پہنچائیں۔انگریزی کی معروف صحافی جیوتی پنوانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو اور انگریزی زبان کےجرنلسٹوں کے مابین ڈائیلاگ ہونا ضروری ہے۔ جب ہم ایک ہی پیشہ سے وابستہ ہیں تو ہمارے نظریات میں اختلافات کیوں۔ ممبئی فسادات ہوں یا مسلمانوں کی گرفتاریوں کا معاملہ انگریزی زبان کے صحافی صرف پولس کی بتائی ہوئی باتوں کو سچ گردانتے ہیں

جبکہ اردوصحافت ا س سے اجتناب برتتی ہے نو بھارت کے انوراگ ترپاٹھی نے اس موقع پر کہا کہ پوری صحافی برادری دور حاضر میں مشکل دور سے گزر رہی ہے۔اردو صحافت کی حالت تو مزید ابتر ہے۔اس زبان کا جنم ہی شہادت سے ہوا ہے جبکہ دوسری زبانوں کے اخبارات کی نیو تجارت سے ہوئی۔ہم نے تو جرنلسٹوںکو ہمیشہ غریب ہی دیکھا ہے لیکن آج چینلوں سے منسلک اینکرس کروڑوں میں کھیل رہے ہیں۔سیشن کے صدر گجراتی مڈے کے سابق ایڈٹرجتن دیسائی نے کہا کہ اردو صحافت کی تاریخ ایک روشن تاریخ رہی ہے آج اگر حالات دگرگوں ہیں تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے کہاں غلطی کی ہے؟ ہم اس کا ازالہ کر کستے ہیں۔اردو کا پہلا اخبار پنڈت ہری ہردت نے شروع کیا تھاماضی میں زیادہ تر اردو اخبارات کے مالک ہندو ہواکرتے تھے کسی بھی زبان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔روزنامہ ایشیا ایکسپریس کے مدیر شارق نقشبندی نے کہا کہ اردو کا ماضی تابناک اور حال کربناک ہے۔ اردو اخبارات کے پرنٹ ایڈیشن اپنےوجود کی جنگ لڑ رہے ہیں اب ضروری ہے کہ ہم پرنٹ  ایڈشنوں کے ساتھ ساتھ ڈیجٹل ایڈیشن بھی شروع کریں۔

اندو عرب سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر محمد علی پاٹنکر نے پرمغز تقریر میں کہا کہ جب ہمارے بچے اردو نہیں پڑھیںگے تو انہیں اپنی تہذیب و ثقافت سے آگاہی کیسے ہوگی؟’’اردو صحافت کا ماضی حال اور مستقبل کے عنوان سے منعقدہ دوسرے سیشن کے صدر راجیہ سبھا رکن ندیم الحق  (مدیر اخبار مشرق) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زبان اردو کے بقا کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے ماحول اور گھر میں اردو کو زندہ رکھیں انگریزوں سے قبل ہندستان میں فارسی رائج تھی مگر اس وقت بھی سنسکرت اور ہندی والے باہر تو فارسی استعمال کرتے تھے مگر انہوں نے اپنے گھروں میں اپنی زبان کو زندہ رکھا تھا  سو ہمیں بھی یہ نسخہ کیمیا اپنانے کی ضرورت ہے۔کووڈ کے بعد اردو اخبارات کے حالات ناساز ہوگئے ہیں  ان کی معاشی حالت سکڑتی جارہی ہے آمدنی کے ذرائع انتہائی محدود ہوگئے ہیں  ملک میں میں بہت سے افراد ہیں جو اردو سے محبت کا دعوٰ تو کرتے ہیں لیکن اس محبت کا اقرار نہیں کرتے ہم مغربی بنگال میں اردو کے فروغ کی کاوشوں میں مصروف ہیں

  مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے تحت یہاں ضرورت مندوں کو اسکالر شپ فراہم کی جارہی ہے اردو گھر تعمیر کیا گیا ہے یہاں ہم گزشتہ دس سال سے غیر اردو دانوں کو زبان اردو سکھا رہے ہیں  ویسے بھی اردو صحافت سے کلکتہ کا رشتہ پرانا ہے ۲۷،مارچ ۱۸۲۲ کو اردو کا سب سے پہلا اخبار جام جہاں نما کلکتہ سے ہی شائع ہوا تھا۔ مولانا آزاد نے بھی یہیں سے الہلال اور البلاغ شائع کیا تھا، آج صحافت پروفیشن سے تجارت کا رخ اختیار کر گئی ہے خود کو بچانے کے لئے کیا ہمیں بھی گودی میڈیا بننا پڑے گا! جناب …

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
%d bloggers like this: