مزاحقہ خیز پاکستان اور بلخصوص سندھ حکومت | Urdu News
ColumnUrdu News

مزاحقہ خیز پاکستان اور بلخصوص سندھ حکومت

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

کہاوت مشہور ھے کہ کتے کی دم سو سال بھی سیدھے پائپ میں رکھو نکالو تو ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی نکلے گی۔ یہی حال سندھ حکومت یعنی پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا ھے یہ بات میں نہیں کہہ رھا بلکہ ھماری عدالتوں کے ججز اور جسٹس صاحبان اپنے فیصلوں میں علی الاعلان بیان کررہے ھیں۔ عدالت عظمیٰ کے پاس سندھ حکومت کے گزشتہ تیس چالیس سالوں سے زائد عرصہ میں مسلسل متواتر کرپشن، رشوت ستانی، قومی خذانے کی لوٹ مار، اقربہ پروری اور مال غنیمت دل بے رحم کے مطابق ایسے ایسے کیس آئے، کہ جن سے ثابت ھوجاتا ھے کہ جمہوریت ڈھال ھے بدعنوانی اور لاقانونیت کا اور سہارا ھے اشرفیہ و امراؤں کا اور سائبان ھے لاقانونیت و جرائم کا، اور پردہ ھے دہشتگردی و قتل و غارت گری کا۔۔

ان میں جہاں اور سیاسی جماعت شامل ھیں وہاں ایم کیو ایم نے بھی بیشمار غیر قانونی، لا قانونیت، کرپشن، غنڈہ گردی کی تاریخ رقم کیں لیکن جب پورے صوبہ سندھ کے حوالے سے بات کی جاتی ھے تو پاکستان پیپلز پارٹی صفحہ اول پر نظر آتی ھے۔ کوئی ایک چپہ ایسا نظر نہیں آتا جہاں اس کے ظلم و ستم و بربریت کی داستان موجود نہ ھوں۔ لا قانونیت اور بدمعاشی کا حال یہ ھے کہ ریاست کے اہم ترین منصبوں و عہدوں پر دھڑلے اور بدمعاشی کیساتھ نا اہل اور جاہلوں کی تقرریاں کرتے ھوئے احساس شرم سے خالی ھوتے ھیں اور سمجھتے ھیں کہ یہ حق انہیں آئین و دستور نے دیا ھے۔ جب سندھ اسمبلی کی جانب دیکھتے ھیں تو اوباش، راشی، عیاش، نشئی ممبران کی تعداد کثرت سے نظر آتی ھیں۔ جاہل، بدکردار، وزراء و مشیران کی ایک طویل فہرستیں ھیں، ان کی جاہلیت اور ناہلیت کے سبب سندھ بھر کے سیکریٹریز، یا ڈپٹی سیکریٹریز اور ایڈیشنل سیکریٹریز کیساتھ ساتھ کمشنر، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، انسپکٹر جنرل، ڈپٹی انسپکٹر جنرلز اور ہر محکمہ کے ڈائریکٹرز و ہیڈ کی کثیر کرپٹ بددیانت اور راشیوں کو دیکھ کر حیرت و تعجب میں انگشت دندان چبا لیتے ھیں کہ اس برترین حالات میں یہ صوبہ ٱف خدایا اس قوم پر رحم فرما۔۔۔۔

جس ریاست میں جاہل مطلق، ظالم و جابر حکمران نافذ ھوجائیں تو سمجھ لیجئے کہ من حیث القوم ھم سب کے گناہوں اور اللہ کی ناراضگی وجہ سے یہ حالات پیدا ھوگئے ھیں۔ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر سندھ حکومت بلخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کی ظالمانہ روش عیاں ھوگئی اور اہلیت و قابلیت کا جنازہ نکالتے ھوئے نااہلوں و جاہلوں کی سندھ پبلک سروس کمیشن نے دھڑا دھڑ بھرتیاں کیں، کورٹ نے اس بابت سخت نوٹس لیا ھے لیکن کچھ عرصہ خاموشی کے بعد یہ سندھ حکومت اپنی روش پر دوبارہ آجائیگی۔ مجھے بتایا کہ اس ظالمانہ سندھ حکومت پر بیغیرت، بے ضمیر ایم کیو ایم چند ٹکروں پر پلنے والے چپ سادھ لئے بیٹھے ھیں۔ ان سے زیادہ وہ مہاجر بے غیرت ھیں جو انہیں اب بھی ووٹ دیکر اپنا ووٹ زائل کرتے ھیں۔ یاد رکھئے اب ایم کیو ایم مختلف ناموں شکلوں اور مختلف لیڈ کرنے والوں پر مشتمل ھے،

فی الحال ذاتی مفادات کو حاصل کرنے کیلئے ایک نظر آرھے ھیں بہت جلد انتخابات کے قریب ہڈی کیلئے کتوں کی طرح لڑتے نظر آئیں گے۔ یہ حال صرف سندھ کا ہی نہیں بلکہ دیکھا جائے تو پاکستان بھر کے تمام صوبوں کا ایک جیسا ہی ھے کیونکہ یہ ظالمانہ اور بدکردار سیاسی رویہ جمہوریت کا حسن ھے۔ ایسی جمہوریت پر بیشمار لعنت۔ پاکستانی قوم کو خود بدلنا ھوگا، اٹھنا ھوگا، اللہ کے آگے توبہ استغفار اور سجود کرنا ھوگا اور طالب رہنما کرنا ھوگا کیونکہ ان سب میں کوئی ایک بھی نہ رہنما ھے نہ لیڈر ھے یہ سب کے سب سیاسی مداری اور بندر ہیں۔ یہ سیاسی پیچ و داؤ سے کھیلتے ھیں ان سب سیاستدانوں میں کمال کا جھوٹ، منافقت، ریاکاری، عیاری، مکاری، سازشی اور یوٹرن جیسے ہنر پائے جاتے ھیں۔ یہ سب کے سب خود غرض لالچی، موقع پرست اور دھوکے باز ھیں۔ ھم سب عوام کو اس نظام سے جان چھڑانا اشد ضروری ھوگیا ھے، کیونکہ نظام جمہوریت فسطانی، دجالی اور یہودی و امریکی نظام ھے جو ھم مسلمانوں بلخصوص پاکستان اور پاکستانیوں کو تباہ و برباد کرنے کیلئے دھوکہ و سازش کے ذریعے نافذ کرایا گیا تھا۔

اس نظام جمہوریت کے روح رواں ذوالفقار علی بھٹو تھا خود تو مرگیا پوری قوم کو بھی مروادیا۔ اس نظام جمہوریت کی سخت مخالفت قرآن و حدیث اور خود قائد اعظم محمد علی جناح ؓ نے ہمیشہ سے کی اور اس بابت تحریری وصیت نامہ بھی لکھا جو تاحال نہ سنا گیا اور نہ ہی سنا جارھا ھے۔ ڈاکٹر انجینئر سید صادق علی صاحب نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں پٹیشن جمع کرائی ھوئی ھے مگر سپریم کورٹ کے رجسٹار صاحب تاریخ دینے میں معذور نظر آتے ھیں جبکہ براہ راست خط بھی چیف جسٹس عطا بندیال صاحب کو تحریر بھی کیا ھے مگر سپریم کورٹ کے جسٹس عطا بندیال صاحب پھر بھی نہیں سن رھے ھیں جبکہ یہ قومی فریضہ اور قوم کے مستقبل کا سوال ھے۔

یاد رکھیں جب تک ان بیرونی قوتوں سے ھم سب اور بلخصوص ریاست اپنی جان نہیں چھڑائی گی تب تک پاکستان نہ آگے بڑھ سکتا ھے نہ ہی ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ھوسکتا ھے۔ آج حال دیکھ لیں، جمہوریت کے چیمپئین ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی باقیات کے اثرات ڈیڈی ڈیڈی کہنے والے کی نسلیں ابھی تک ڈیڈی ڈیڈی سے باہر نہیں نکلیں۔ یہ سب کے سب سیاستدان اپنے اپنے صوبوں کی عوام کو بیوقوف اور الو بناتے چلے آرھے ھیں، انہیں غلام بناکر رکھا ھے، تعلیم و ہنر اور صحت کی دولت سے محروم کئے رکھا تاکہ ان میں شعور نہ جاگ اٹھے اور یہ حقیقت شناز نہ بن جائیں یاد رکھو!! اے میری پاکستانی قوم، تم ان سب سیاستدانوں سے جان چھڑاؤ اور ایک اللہ کے آگے سجدہ سجود ھوئے اپنے رب سے سچا، نیک، ایماندار، پرہیزگار، قابل، ذہین، فطین، سادات خاندان محب وطن اور عاشق رسول ھو جو ظاہری دکھاوے اور ہاتھ میں تسبیح بھی نہ پکڑتا ھو۔

دیکھنے میں عام سا مگر دل تیرے نور سے منور ھو۔ اے اللہ!! ھمیں وہ لیڈر وہ رہبر جلد عطا کردے، تو جانتا ھے کہ ھمارے پاس قائداعظم محمد علی جناح اور نواب لیاقت علی خان کے بعد سے ابتک کوئی نہ لیڈر و رہبر آیا ھے نہ پیدا ھوا ھے۔ یہ سب کے سب سیاستدان خود کو لیڈر کہہ کر عوام کو دھوکہ دیتے چلے آرھے ھیں، اے اللہ!! ہمیں حقیقی لیڈر و رہنما عطا فرما آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
x