Hey luck of Pakistan

ہائے رے پاکستان کی قسمت

آج میں ریاستِ پاکستان کی قسمت کا ذکر کرونگا جس کی قسمت پر ہر محب وطن لہو کے آنسو روتا ھے یاد رکھئے ماضی کی غلطیوں سرزشتوں کوہتاہیوں کے سبب ھم سب من حیث القوم ایک جانب مجرم ھیں تو دوسری جانب وہ اسی مجرمانہ عمل کو جاری کئے ھوئے ھیں جن سے یہ ملک اور ریاست شدید تنزلی کا شکار رھی ھے اور ان آقاؤں کے بھیانک سازشوں مکاریوں کے سبب ایماندار دیانتدار سچے مخلصِ وطن کا سر زمین پاک میں رہنا نہ صرف دوبھر کردیا گیا بلکہ کئی مخلصینِ وطن کو ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کی زد میں جھونک ڈالا۔

معزز قارئین

پاکستان دنیا کا واحد مسلم ملک ھے جو اپنے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے ہاتھوں آباد ھونے کے بجائے برباد ھوا۔ اپنے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی خود غرضیوں لالچ اور منافقت کے ذریعے نہ صرف ریاست بلکہ ملک و قوم کو آج جس نہج پر پہنچادیا ھے اس کی ایک بڑی وجہ یہاں کا نظام جمہوریت ھے۔ اسی نظام جمہوریت کے سبب کرپشن، لوٹ مار، بدعنوانیقارئین اور حق تلفیوں کی تمام حدیں پار کی جاتی رہیں ھیں۔ اس بابت جب میں اپنے سینئرز صحافی، استاد الصحافت، استاد المورغ،، استاد المحقق اور پیارے دوست جناب صغیر قریشی صاحب سے رابطہ کیا تو انھوں ایک ایسے حقائق سے پردہ اٹھایا کہ جس کو سن کر کانپ اٹھا کہ کس قدر ظالم و جابر ھیں یہ سیاستدان اور حکمران والے۔ میں اپنے معزز قارئین کو اس کی تفصیل پیش کررتا ھوں۔ وہ بتاتے ھیں کہ جہاں دیگر سیاسی تنظیموں نے کرتوت کی داستانیں رقم کی ھیں وہیں ایم کیو ایم بد نام زمانہ بننے کیلئے کسی ایک ایم کیو ایم کے لیڈر نے اہنی ہی قوم کو نہ بخشا اور ملک و قوم کو لوٹنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جناب صغیر قریشی صاحب بتاتے ھیں کہ مہاجروں کی سیاسی جماعت کے اہم شخصیت کے بارے میں بتاتا ھوں کہ ایم کیو ایم کے عامر خان کی بیس کروڑ روپے کی تازہ واردات تہلکہ خیز انکشافات آپ کے سامنے پیش خدمت ھیں۔

وہ کہتے ھیں کہ پہلے ایم کیو ایم چھوڑ کر حقیقی بنائی اور کم و بیش ہزاروں مہاجروں کو خون میں نہلایا، خوب مال بنایا، بھائی کو سرکاری ادارے میں نوکری دلائی، جب حقیقی کی کشتی میں سوراخ ہوگیا تو اس میں سے چھلانگ لگا کر سنہ دو ہزار گیارہ میں الطاف حسین سے معافی مانگ کر دوبارہ ایم کیو ایم میں شامل ہوگیا، پہلے کے کے ایف سے ماہانہ پچاس ہزار روپے وظیفہ لیا پھر ایک شادی ہال پھر دوسرا شادی ہال اور پھر اپنے قریبی عزیز اور ایم ڈی اے کے سابق ڈی جی سہیل بابو کے ساتھ مل کر زمینوں پر قبضوں، بلڈر مافیا کے ساتھ مل کر لوٹ مار کا وہ بازار گرم کیا کہ آج ان موصوف کے دبئی، کینیڈا ،امریکا اور پاکستان میں رئیل اسٹیٹ اور گوشت کے کاروبار پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ داستان محفلوں میں منہ پھولائے اور لا تعلق اور سنجیدگی اور متانعت کا ڈرامہ کرنے والے عورت نُما میسنے عامر خان کی ہےجس نے تازہ ترین واردات میں تقریباً بیس روز قبل کراچی کی شہید ملت روڈ پر واقع السمعیہ بلڈر کے مالک الطاف ستار کانٹا والا سے پارٹنر شپ کا حصہ بیس کروڑ روپے وصول کئے،

انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق بیس کروڑ روپے کی رقم وصول کرنے عامر خان بذات خود السمعیہ بلڈرز کے دفتر واقع شہید ملت روڈ گیا اور الطاف کانٹا والا سے ملاقات کی اور اسے بتایا کہ میں اپنا پاکستان میں پھیلا ہوا کاروبار سمیٹ کر دبئی سیٹل ہورہا ہوں۔ الطاف ستار کانٹا والا نے طے شدہ معاہدے کے تحت ایک ہزار روپے کے نوٹوں پر مشتمل بنڈلوں سے بھرا بڑے سائز کے بیج کلر کے سوٹ کیس میں بیس کروڑ روپے عامر خان کے حوالے کردیئے، جو عامر خان دو اعتماد کے آدمیوں کی مدد سے لے کر پولیس گارڈز کیساتھ ہمراہ اپنی گاڑی میں لاد کر فیڈرل بی ایریا بلاک دس میں واقع اپنے گھر لے آیا۔

ذرائع کیمطابق عامر خان نے پہلے اپنڈکس پھر پاسپورٹ کے ری نیول اور پھر بواسیر کے آپریشن کا بہانہ بناکر اپنا بیرونِ ملک جانا ملتوی کیا تاہم اس التوا کے پیچھے مختلف کاروباروں میں کی گئی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی رقوم کی وصولی میں ہونے والی تاخیر تھی جو ملتے ہی عامر خان نے گلشن معمار احسن آباد، پی ای سی ایچ ایس، سندھی مسلم سوسائٹی، بحریہ ٹاون، لیاقت آباد کراچی واٹر بورڈ، ایم ڈی اے اور دیگر علاقوں اور اداروں میں اپنا کاروبار اور سرمایہ کاری سمیٹنا اور بیرون ملک جانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں، اسی دوران عامر خان نے اپنے تعلقات استعمال کرکے اربوں روپے کی زمین ٹھکانے لگانے اور بحریہ ٹاون کو لاکھوں ایکڑ زمین کی غیر قانونی الاٹ کرنے کے کردار سہیل بابو کو امریکا فرار کرا دیا جہاں ہیوسٹن میں سہیل بابو اور اس کے خاندان کو گرین کارڈ مل چکا ہے جس میں ہیوسٹن میں مقیم ایم کیو ایم کے سابق رہنما بابر غوری نے بھرپور تعاون اور مدد کی، ذرائع کیمطابق سہیل بابو امریکا اور کینیڈا میں بھی عامر خان کے کاروبار کی نگرانی کررہا ہے۔ اس طرح عامر خان کی فلم کی ہیپی اینڈنگ ہوگئی ہے، کیا ہر مہاجر اتنے مزے کررہا ہے؟۔۔۔

معزز قارئین

آج اس ملک کو اس قوم کو ان تمام سیاستدانوں حکمرانوں سے جان چھڑانے ناگزیز ھوچکی ھے کیونکہ یہ سب کے سب دیمک ھیں جو ملک کو چاٹ چکے ھیں اور ان کی خوراک کے سہولتکاروں میں جسٹس صاحبان پیش پیش رھے ھیں جبھی ان سب کو انجام تک نہیں پہنچایا جاسکا البتہ حقائق جانتے ھوئے بھی کورٹ کی طرح بھاؤ لگاتے ھیں اپنے ضمیر کا اپنی عزت کا جب ایک پاکستانی کو عدل و انصاف میسر نہیں تو ریاست اور ملک کس طرح ان جسٹس صاحبان سے انصاف کی امید رکھ سکتے ھیں یہ جانتے ھوئے بھی کہ جمہوری نظام ملک و ریاست کو بھونسہ بناکر رکھ دے گا مگر ذمہداران مخلصین خواب غفلت میں مبتلا ھیں۔ پاکستان کا اللہ ہی حافظ۔۔۔!!

مزید پڑھیں

x