Urdu News

وطن واپس آنے والے افراد کے مالی استحکام کے لیے ایک روشن منصوبہ

اسلام آباد: اوورسیز پاکستانی فائونڈیشن نے وطن واپس آنے والے پاکستانیوں میں مختلف کاروبار مثلا بجلی کا کام، پلمبر، ترکھان، مستری سے متعلق ضروری سامان تقسیم کیا تاکہ وہ اپنے کاروبار کا آغاز کر کے معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔ اس سلسلے میں اسلام آباد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔
یہ قدم بیرون ملک سے وطن واپس آنے والے افراد کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے منصوبے کا حصہ ہے ۔ او پی ایف یہ منصوبہ جی آئی زیڈ کے تعاون سے انجام دے رہا ہے ۔
اسے وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی جرمنی (بی ایم زیڈ) نے کمیشن کیا ہے اور یہ بی ایم زیڈ کے بیرون ملک پاکستانیوں کی واپسی اورمعاشی طور پر دوبارہ انضمام کے لئے جاری کیے گئے منصوبہ کا حصہ ہے۔
لاہور میں او پی ایف کی دفتری حدود میں ہی پاکستانی جرمن فسیلیٹیشن اینڈ ری انٹگریشن سینٹر(پی جی ایف آر سی) قائم کیا گیا ہے ، جبکہ اسلام آباد ہیڈ آفس میں اس حوالے سے ایڈوائزری ڈیسک قائم کیا گیا ہے ۔ پی جی ایف آر سی وطن واپس آنے والے افراد اور مقامی افراد کو آمدنی کے پائیدار ذریعے کے حصول میں مدد فراہم کر رہے ہیں ۔

ایک نیا آغاز اپنا وطن اپنا روزگار۔  نامی اس تقریب میں 80 شرکا میں مخصوص تجارتی ٹول کٹس تقسیم کی گئیں ۔  وطن واپس آنے والے ان افراد نے پی جی ایف آر سی کی جانب سے ایک جامع کاروباری ترقیاتی تربیت بھی حاصل کی ہے۔
ڈاکٹر عامر شیخ، مینجنگ ڈائریکٹر او پی ایف ، جی آئی ذیڈ کے افسران، سینٹ اور نیشنل اسمبلی سٹینڈنگ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانی اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے ممبران، او پی ایف بورڈ آف گورنرز، اعلیٰ حکومتی عہدیداران، کے علاوہ بین الاقوامی اداروں اور سول سوسائٹی تنطیموں کے ممبران نے اس تقریب میں شرکت کی ۔

ڈاکٹر عامرشیخ، مینجنگ ڈائریکٹر او پی ایف نے کہا کہ بہت بہتر وقت پر پاکستان اور جرمن حکومتوں کے مابین مفاہمت کی یاداشت کو حتمی شکل دی گئی ہے جس کے تحت پاکستان واپس آنے والے افراد کو کاروبار کے آغاز اور ملازمت کی غرض سے فنی اور مالی امداد فراہم کی جارہی ہے جو کہ اس شعبے میں نئی صبح کا آغاز ہے۔

بیشتر پاکستانی کام کی غرض سے بیرون ملک ہجرت کرتے ہیں ، لیکن اپنی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ، وہ پاکستان واپس آتے ہیں اور خود کو دوبارہ مستحکم کرنے اور باعزت زندگی گزارنے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ خاص کر کوویڈ ۱۹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ، ایسے حالات میں بہت سے پاکستانی وطن واپس آئے اور اس صورتحال میں یہ منصوبہ ان کے لیے امید کی کرن ثابت ہوا۔

پی جی ایف آر سی کے ہیڈ ، ڈاکٹر منصور زیب خان نے بتایا کہ تمام افراد کی اس سینٹر تک رسائی ممکن ہے اور یہاں مفت سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔ پی جی ایف آر سی تربیت اور ہنر میں اضافہ، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت، مارکیٹ کے رجحانات اور مواقع ، پاکستان میں ملازمت تلاش کرنا اور انٹرپرینیورشپ کے بارے میں مفت مشورے فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی مضبوطی سے متعلق معلومات ، پاکستان میں صحت کے نظام اور رہن سہن سے متعلق معلومات اور قرض لینے سے متعلق معلومات بھی فراہم کرتا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ وطن واپس آنے والے 800 سے زائد  الیکٹریشن، پلمبر، کارپینٹر اور میسن اس تربیت اور صلاحیت سازی سے فائدہ اٹھائیں گے جس کے بعد انہیں کاروبار کے آغاز کے لیے ضروری سامان بھی فراہم کیا جائے گا۔
جی آئی زیڈ کے کنٹری ڈائریکٹر ٹوبیس بیکر نے اس موقع پر کہا کہ پی جی ایف آر سی سیلف ایمپلائمنٹ اور کاروبار کے آغاز کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ اہم قدم ملک میں بے روزگاری کے خاتمے کی جانب بڑا قدم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے نہ صرف واپس آنے والے افراد کوبہتر اور صحت مند زندگی گزارنے میں مدد ملے گی  بلکہ ایجنڈا 2030 کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقیاتی کے اہداف بھی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
%d bloggers like this: